بنام خداوند بخشنده مهربان  Thursday, November 20, 2008  

     

سوالات داغ

 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...

Forums

بحث های داغ:
سوال نمبر : # 3185
سوال کا امتیاز:
سوال ارسال کرنے کی تاریخ:: Sunday, August 24, 2008
جواب کی تاریخ: : Sunday, August 24, 2008
نام: -
بھیجنے والے کے مشخصات
ملک: -
موضوع: اخلاق --> عملی اخلاق
جواب دینے والے کا نام: The Porch of Wisdom Institute
دوستوں کو ارسال کریں

قرآن مجید میں اشارہ کئے گئے بعض انسانوں کے مسخ ھونے کی کیفیت کیا ھے؟ اور کیا موجودہ حیوانات وھی مسخ شدہ انسان ھیں؟


لغت میں " مسخ" ایک صورت کے بدتر صورت میں تبدیل ھونے کے معنی میں ھے اور قرآن مجید اور روایات کی اصطلاح میں اس کے معنی ایک قسم  کا عذاب ھے جو زیادہ  گناھگار  افراد اور امتوں پر نازل ھوتا تھا۔

مسخ شدہ انسان ، حیوان ( بندر، لنگور ۔۔۔) کی صورت میں تبدیل ھوتے ہیں ، ایک گناھگار انسان کی صورت اسی دنیا میں مسخ ھوکر ایک حیوان کی صورت میں تبدیل ھوتی ھے یا سادہ تر الفاظ میں انسان ، حیوان کی صورت میں تبدیل ھوتا ھے۔

قرآن مجید میں ذکر ھوئے " مسخ " کو اکثر مفسرین ، حقیقی مسخ سمجھتے ہیں یعنی ایک شخص حقیقت میں حیوان کی صورت میں تبدیل ھوتا ھے ۔ لیکن اھل سنت مفسرین میں سے چند افراد اس قسم کے مسخ کو سِرِشت  میں مسخ سمجھتے ہیں یعنی منظور نظر فرد حیوان کی صورت میں تبدیل نھیں ھوتا ھے  ، بلکھ اسکی سرشت اور فطرت ھی ایسی بنتی ھے اور اس کے علاوہ کچھہ نھیں ھے۔

بعض لوگوں کے مسخ ھونے کا سبب ، ان کے گناہ اور اس عذاب سے عبرت کا پھلو بھی مقصود ھے ، روایات سے معلوم ھوتا ھے کھ مسخ شدہ انسان چند دنوں کے بعد نابود ھوجاتے ھیں ، موجودہ حیوانات وھی حیوانوں کی نسل ھے نھ کھ مسخ شدہ انسان۔



  


نظر شما :