بنام خداوند بخشنده مهربان  Thursday, November 20, 2008  

     

سوالات داغ

 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...

Forums

بحث های داغ:
سوال نمبر : # 3179
سوال کا امتیاز:
سوال ارسال کرنے کی تاریخ:: Saturday, August 23, 2008
جواب کی تاریخ: : Saturday, August 23, 2008
نام: -
بھیجنے والے کے مشخصات
ملک: -
موضوع: فقہ --> حقوق و احکام
جواب دینے والے کا نام: The Porch of Wisdom Institute
دوستوں کو ارسال کریں

قرآن مجید کے مطابق خاندان میں مردوں کی عورتوں پر نگرانی کی کیا توجیھ ھے؟


سورہ نساء کی آیت نمبر ۳۴ میں  عورتوں پر مردوں  کی نگرانی اور حکمرانی " الرجال قوامون علی النساء"  عورتوں پر مردوں  کے تسلط ، زور زبردستی اور بالا دستی کے معنی میں نھیں ھے ، بلکھ جیسا کھ اھل لغت اور ان کی پیروی میں  اکثر مفسرین نے کھا ھے کھ لفظ " قوام" سرپرستی ، رسدات کے انچارج اور نگرانی کے معنی میں ھے ۔کیونکھ خاندان معاشرے کا ایک چھوٹا یونٹ ھوتا ھے ، اس لئے قدرتی بات ھے کھ اس کو ایک بڑے معاشرے کے مانند ایک رھبری و سرپرستی کی ضرورت ھوتی ھے ۔ اس لئے ۔ بعض وجوھات اور مردوں میں  موجود خصوصیات   کی بنا پر یھ ذمھ داری مردوں کو ھی سونپی گئی ھے ، مردوں کی یھ خصوصیات حسب ذیل ھیں۔

1۔ فکری توانائی کا جذبات، لطف اور احساسات پر غلبھ،

۲۔ خاندان کی عزت و آبرو اور تقدس کا دفاع کرنے کی جسمانی طاقت

۳۔ بیوی بچون کی پرورش کے لئے مالی اخراجات برداشت کرنے کی ذمھ داری مرد پر عائد کی گئی ھے۔

قرآن مجید ، حاکمیت اور سرپرستی کو صرف عدل و انصاف اور خداوند متعال کی رضا مندی کے دائرہ میں  جائز جانتا ھے اور خداوند متعال کے سامنے صرف تقوی اورپرھیزگاری کی برتری معیار ھے ، نھ کھ جنسیت ۔ قرآن مجید کے تھذیبی آداب کے مطابق مرد کی حکمرانی اور بالادستی میں  تسلط ، ظلم و زیادتی کی کوئی گنجائش  نھیں ھے ، مذکروہ آیھ شریفھ سے جو مردوں کے عورتوں پر  تسلط کا توھم پیدا ھوا ھے  شائد قرآن کے محققین کی طرف سے لفظ "قوام" کے صحیح معنی بیان نھ کئے جانے کی وجھ سے ھے  .



  


نظر شما :