بنام خداوند بخشنده مهربان  Friday, December 05, 2008  

     

سوالات داغ

 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...

Forums

بحث های داغ:
سوال نمبر : # 3158
سوال کا امتیاز:
سوال ارسال کرنے کی تاریخ:: Thursday, August 21, 2008
جواب کی تاریخ: : Thursday, August 21, 2008
نام: -
بھیجنے والے کے مشخصات
ملک: -
موضوع: کلام --> کلام قدیم
جواب دینے والے کا نام: The Porch of Wisdom Institute
دوستوں کو ارسال کریں

کیا پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام الفاظ اور کلام وحی ہوتے تھے یا نہیں ؟ دوسرے الفاظ میں ، کیا رسول خدا (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان پر جاری ہونے والے تمام کلام اور اسی کے ذیل میں آپ (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام اعمال و کرادر الہٰی تعلیمات تھے جو وحی کے ذریعہ آپ تک پہنچتے تھے یا نہیں آنحضرت (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی وحی کے بغیر کلام کرتے تھے یا یہ کہ آپ(صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ کلام جو دین و احکام سے مربوط ہے اور وہ کلام جو روزمرہ کی عام زندگی کا محاورہ تھے ان دونوں میں فرق کا قائل ہونا چاہیئے ؟


اس سلسلہ میں صاحب نظر حضرات کے نظریات مختلف ہیں :

بعض سورہ نجم آیت 3-4[i] کے اطلاق کے پیش نظر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تمام تر کلام و اعمال و کردار وحی کی بنیاد پر ہے ۔

بعض کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ سورہ نجم کی آیت نمبر4 قرآن مجید اور آنحضرت (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہونے والی آیتوں کے بارے میں ہے ۔ ہر چند آپ (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت حجت ہے اور آپ کا سکوت ، کلام اور رفتار وکردار ہوا و ہوس کی بنیاد پر نہیں ہوتا تھا۔

ﺴﻤﺠﮭ میں یہی آتا ہے کہ اس سلسلہ میں جو بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی فعل و عمل ، وحی کے بغیر نہیں ہوتا تھا جس طرح آپ (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام اس خصوصیت کا حمل تھا اسی طرح آپ (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روزمرہ کی عام زندگی میں استعمال کیئے جانے والے محاورے بھی اپنی خواہش سے خالی ہوتے تھے ، حقیقت میں یہ محال تھا کہ اس وادی میں بھی آپ کے دامن پر گناہ کا دھبا لگے ۔



[i]  و ما ینطقُ عن الہویٰ ان ہو الّا وحیٌ یوحیٰ



  


نظر شما :