![]() |
|
بنام خداوند بخشنده مهربان Thursday, November 20, 2008 |
|
سوال کا امتیاز: سوال ارسال کرنے کی تاریخ:: Wednesday, December 12, 2007جواب کی تاریخ: : Wednesday, December 12, 2007 نام: - بھیجنے والے کے مشخصات ملک: - موضوع: قرآن --> قرآنی علوم جواب دینے والے کا نام: The Porch of Wisdom Institute دوستوں کو ارسال کریں یہ بات مسلم ہے کہ جب حضرت رسول اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) لوگوں کے لیئے قرآن کی آیتیں پڑھتے تھے تو جو افراد کاتب وحی تھے ان آیتوں کو ﻟﮐﮭ لیا کرتے تھے ،لیکن قرآنی آیات کی جمع آوری اور اس کی کلی تدوین کس زمانہ میں ہوئی ؟ اس وقت جو مجموعہ قرآن کے نام سے ہمارے ہاتھوں میں ہے ، کس زمانہ میں وجود میں آیا؟ جمع قرآن کے سلسلہ میں تین نظریہ پائے جاتے ہیں: الف:قرآن کریم خود پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں اور آنحضرت (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی الہی روشنی میں تدوین پایا، ہر چند خود رسول خدا (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے خود قرآن تحریرنہیں کیا اورخود آیتوں کی جمع آوری نہیں فرمائی۔[1] ب: موجودہ قرآن حضرت علی علیہ السلام کے ذریعہ ،آنحضرت (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد جمع ہوا اور تدوین پایا ،اور یہ کام اس زمانہ میں انجام پایا جب آپ خانہ نشین تھے۔[2] ج: قرآن آنحضرت (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد بعض اصحاب کے ہاتھوں جن میں حضرت علی علیہ السلام نہیں تھے جمع و تدوین کے مرحلہ سے گذرا [3] ۔ بہت سےشیعہ علماء خاص طور سے علمائے متاخرین اور علمائے معاصر ،معتقد ہیں کہ قرآن پیغمبر اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں اور ان کی زیر نگرانی جمع کیا گیا۔ [4] بعض شیعہ دوسرے نظریہ کو قبول کرتے ہیں اور امیر المومنین علیہ السلام کو قرآن کا جمع و تدوین کرنے والا سمجھتے ہیں،[5] لیکن بہتت سے اہل سنت تیسرے نظریہ کو قبول کرتے ہیں اور مستشرقین نے بھی اسی نظریہ کو مانا وہ کہتے ہیں کہ جو قرآن حضرت علی علیہ السلام نے جمع کیا تھا اسے اصحاب نے قبول نہیں کیا۔ جیسا کہ ظاہر ہے ، پہلے اور دوسرے نظریہ کہ اعتبار سے قرآن کی جمع و تدوین کی اساس خداوند عالم کی ذات ہے اور سوروں کا وجود اور ان کی ترتیب بھی وحی الہی کے پرتو میں انجام پائی ہے ،کیونکہ رسول اکرم (صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) آیت کریم:"ما یَنطِقُ عَنِ الہویٰ الّا وَحیٌ یوحیٰ"[6] مطابق جو ﮐﭼﮭ فرماتے تھے وہ وحی الہی کی رہنمائی کیں ہوتا تھا ،اور ائمہ معصومین علیہم السلام بھی اگر نبی نہیں تھے ،لیکن راہ رسالت کو برقرار رکھنے والے ،عصمت جیسا الہی منصب اور علم لدنی رکھتے تھے۔ جن لوگوں نے تیسرے نظریہ کو اختیار کیا ہے وہ ان دونوں یعنی سوروں کے وجود اور ان کی ترتیب کی الہی حیثیت کوثابت نہیں کر سکتے ،بلکہ حقیقت میں اس کی نفی کرتے ہیں اور اصحاب کی ذاتی ذوق و سلیقہ کو اس میں دخیل جانتے ہیں۔ یہاں چند نکتوں کا ذکر ضروری ہے : 1-علامہ طباطبائی آیہ شریفہ:" انّا نَحنُ نَزَّلنا الذِکرَ و انّا لہُ لحافظون"[7] کے ذیل میں فرماتے ہیں : جو خصوصیتیں قرآن کے لیئے ذکر ہوئی ہیں مثلا فصاحت و بلاغت ،اختلاف کا نہ ہونا ،لوگوں کا اس کے مثل لانے سے عاجز ہونا، یہ سب ہی قرآن میں موجود ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے ۔ اس سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ قرآن وہی قرآن ہے جو صدر اسلام میں خود رسول خدا(صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں پہنچانا جاتا تھا۔[8] یہ بات اگر چہ تحریف قرآن کی نفی کرتی ہے ،لیکن یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ یہ مجموعہ اس شکل و صورت میں وحیانی حیثیت رکھتا ہے ،کیونکہ مذکورہ خصوصیتیں ایسی نہیں ہیں جن سے یہ ثابت کیا جائے کہ آیات کے مجموعہ کی ترتیب جن سے سورہ وجود میں آیا ہے اور سوروں کے مجموعہ کی ترتیب جس نے قرآن تشکیل دیا ہے ،اسی طرح سے ہے جو آنحضرت(صل اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے زمانہ میں رہی ہے ۔ 2- اگر کوئی سوروں اور ان کی ترتیب کے دائرہ میں ان کے مفردات اور قرآنی ترکیبوں سے بڑھکر قرآن کے عددی اعجاز کو ثابت کرے ؛ یعنی ایک سورہ کی آیات اور خود سوروں کے درمیان ایسے مخصوص عددی روابط پائے جائیں جن کا پیدا کرنا انسان کے بس میں نہ ہو تو سوروں اور ان کی ترتیبوں کو بھی وحیانی ثابت کیا جاسکتا ہے ،لیکن بہر حال پھر بھی تمام آیات کی ترتیب کی وحیانی حیثیت جو ایک سورہ میں جمع ہوئی ہیں ثابت نہیں ہوگی۔[9] مزید مطالعہ کے لیئے ملاحظہ ہو: ہادوی تہرانی ،مھدی،مبانی کلامی اجتہاد۔ [1] نک:سید عبد الوھاب طالقانی ،علوم قرآن ،ص 83 ۔ [2] نک:سید محمد رضا جلالی نائینی ،تاریخ جمع قرآن کریم،ص87 ۔ [3] اس نظریہ کو اہل سنت کی اکثریت قبول کرتی ہے،حوالہ گذشتہ،ص 19-51 ۔ [4] نک: سید عبد الوھاب طالقانی،علوم قرآن ،ص83 ؛ سید علی میلانی،التحقیق فی نفی التحریف عن القرآن الشریف،ص41-42 وص46 ۔ محمد ھادی معرفت ،صیانۃ القرآن من التھریف،ص34 ۔ [5] نک: سید محمد رضا جلالی نائینی ،تاریخ جمع قرآن کریم ،ص 80 ۔ [6] اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بلتے مگر وہی کہتے ہیں جو ان پر وحی ہوتی ہیں(نجم،2-3 ) [7] بلا شبہ ہم نہ قرآن کو نازل کیا ہے اور یقیقنا ہم اس کی نگہبانی کرتے ہے(حجر،9) [8] نک: علامہ طباطبائی ،المیزان ،ج12 ،ص104 و ص 106 وص 138 ۔ [9] ھادوی تہرانی ،مہدی،مبانی کلامی اجتھاد، ص 54-55 ،موسسہ ی فرہنگی خانہ خرد، قم ،چاپ اول،1377 ۔ نظر شما : |
![]() |