بنام خداوند بخشنده مهربان  Friday, December 05, 2008  

     

سوالات داغ

 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...
 ...

Forums

بحث های داغ:
سوال نمبر : # 1806
سوال کا امتیاز:
سوال ارسال کرنے کی تاریخ:: Sunday, November 18, 2007
جواب کی تاریخ: : Sunday, November 18, 2007
نام: -
بھیجنے والے کے مشخصات
ملک: -
موضوع: قرآن --> تفسیر
جواب دینے والے کا نام: The Porch of Wisdom Institute
دوستوں کو ارسال کریں

قرآن مجید میں خداوند عالم کے "حیلہ "سے کیا مراد ہے ؟


کسی اچھے یا برے کام کے لیئے چارہ جوئی یا تدبیر کو "حیلہ" کہتے ہیں ۔اسی لیئے قرآن میں بھی حیلہ دوہرے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

بہت سے آیتوں میں "مکر" (حیلہ) کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے جس سے مراد خداوند عالم کی مجموعی تدبیر ہے ۔چونکہ وہ تمام تدبیروں کا مالک ہے ۔ کوئی بھی تدبیر اس کی تدبیر کے دائرہ سے باہر نہیں ہے لہذا خداوند عالم ہر مدبّرسے بالا و برتر ہے کیونکہ "وَاللہ خَیرالماکرین"۔ اور خداوند عالم ارشاد فرماتاہے :اس سے پہلے بھی لوگوں نے تدبیریں کی ،منصوبے بنائے لیکن تمام تدبیریں ،تمام منصوبے خدا کے ہیں ،وہ ہر کس کے افعال سے آگاہ ہے اور جلد ہی کفار کو پتہ چل جائے گا کہ اس دنیا کا نیک انجام کس کے ہاﺘﻬ میں ہے۔ اس آیت میں صراحت کے ساﺘﻬ بیان ہوا ہے کہ تمام تدبیریں خداوند عالم کے قبضہ قدرت میں ہے خداوند عالم کی تدبیر کے مقابلے میں دوسروں کی تدبیریں کسی کام کی نہیں ہے۔



  


نظر شما :