![]() |
|
بنام خداوند بخشنده مهربان Thursday, November 20, 2008 |
|
سوال کا امتیاز: سوال ارسال کرنے کی تاریخ:: Sunday, November 18, 2007جواب کی تاریخ: : Sunday, November 25, 2007 نام: - بھیجنے والے کے مشخصات ملک: - موضوع: کلام --> کلام قدیم جواب دینے والے کا نام: The Porch of Wisdom Institute دوستوں کو ارسال کریں کیا انسان ابدی وجود کا مالک ہے؟اگر ایسا ہے تو کیوں دنیا میں ہمیں ابدیت دکھائی نہیں دیتی ؟ قرآن کریم کی روشنی میں انسان کی فضیلتوں میں سے ایک فضیلت یہ ہے کہ وہ عالم ملکوت کے گلستان کا طائر ہے اور یہ آب و گل کی دنیا اس کا وقتی اور عارضی آشیانہ اور عالم مادہ سے عالم روحانیت تک پہنچنے کا ایک زینہ ہے؛انسان فطری طور سے ابدیت کا طالب ہے اور فطرتا زوال اور محدودیت سے گریزاں ہے ۔ انسان کا وجود دو چیزوں سے مل کے بنا ہے ،روح اور بدن۔ روح اور نفس ناطقہ انسان کی حقیقت ہے اور انسان کا بدن اور جسم ،روح کا اوزار ہے ۔روح کا تعلق عالم ملکوت سے ہے اور وہ مادہ نہیں بلکہ مادہ سے ماوراء مجرد ہے ۔اور بدن و جسم کا تعلق عالم ملک سے ہے اور مادی ہونے کی بنا پر اس میں مادہ کے اوصاف پائے جاتے ہیں جیسے رنگ، شکل،حجم،طول،عرض۔۔۔۔ روح کے مادی نہ ہونے اور اس کے مجرد ہونے کے دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کا جسم اور بدن رفتہ رفتہ ڈھلتا اور ضعیف ہوتا جاتا ہے جبکہ روح اور نفس ناطقہ قوی ہوتی جاتی ہے ۔ خداوند عالم اپنی آیتوں کے ذریعہ سمجھانا چاہتاہے کہ ای انسان تیری ہستی ابدی ہے اور ابدیت دنیائے فانی میں نہیں سما سکتی ؛اگر حیات جاوید اور ابدیت کی تلاش ہے تو وہ ہمارے پاس ہے اور وہ صرف خداوند عالم کے احکام کی پابندی سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔ نتیجہ یہ کہ دنیا چونکہ محدود اور فانی گذرگاہ ہے (چونکہ مادی اور جسمانی ہے اور جسم کی ایک صفت محدودیت ہے)لھذا ابدیت کو یہاں تلاش نہیں کیا جاسکتا،اور روح چونکہ ایک ملکوتی وجود ہے اور زمانی حدود سے برتر ہے لہذا ابدیت کی طالب بھی ہے اور عالم آخرت میں ابدیت کو حاصل بھی کرلے گی۔ نظر شما : |
![]() |