![]() |
|
بنام خداوند بخشنده مهربان Friday, December 05, 2008 |
|
سوال کا امتیاز: سوال ارسال کرنے کی تاریخ:: Sunday, September 09, 2007جواب کی تاریخ: : Sunday, September 09, 2007 نام: - بھیجنے والے کے مشخصات ملک: - موضوع: فقہ --> حقوق و احکام جواب دینے والے کا نام: The Porch of Wisdom Institute دوستوں کو ارسال کریں تقلید کیوں کرنی چاہئے تقلید کا جواز ان مسائل میں ہے جس کے بارے میں خودمقلّدکو اجتھاد کرنا چاہئے (یعنی دلائل کے ذریعہ خود سمجھنا چاھئے) اور اس سلسلہ میں کسی مجتھد کا فتوی مقلد کے لیئے کافی نہیں ہے لہذا یہ مسألہ اھمیت کا حامل ہے۔ عام طور سے انسان دو وجہ سے مجتھد کی تقلید کرتا ہے: ۱)عقلانی دوش یہی ہے جب کسی چیز میں گہری معلومات کی ضرورت ہو اور اس شخص کے پاس اس سلسلہ میں اتنی معلومات نہ ہو تو لا محالہ وہ کسی ماہر شخص سے رجوع کرتا ہے؛جیسے: بیماری کے علاج کے لیئے کسی ماہر طبیب کے پاس جانا۔ اسی عقلانی روش کی بنا پر انسان فطری طور سے اور عقل کے حکم کے مطابق، شرعی احکام کو جاننے کے لیئے مجتھدین کے پاس جو اس سلسلہ کے ماہرین ہیں،رجوع کرتا ہے۔ ۲) ہر مسلمان جانتا ہے کہ اسلام میں واجب و حرام ۔۔۔ کی صورت میں کچھ شرعی فرائض پائے جاتے ہیں ، اور یہی اجمالی اطلاع کافی ہے کی انسان ان فرائض کے سلسلہ میں خدا کے نزدیک جواب دہ ہو۔ان فرائض کے روشنی میں اپنی ذمہ داری کو نبھانے کے لیئے وہ ان تین راستوں میں سے کسی ایک کو اپنا سکتا ہے :الف: یا خود اجتھاد کے ذریعہ واجبات اور محرمات کے تمام احکام سے واقف ہو اور اس پر عمل کرے ؛یعنی یہ کہ خود مجتھد ہو۔ ب: یا اگر دقیق اور عمیق نہیں جانتا تو احتیاط پر عمل کرے کہ یقین ہوجائے کہ اپنی ذمہ داری نبھادی ہے مثال کے طور پر اگر کسی مسألہ میں شک ہو کہ جائز ہے یا حرام تو اس سے پرہیز کرے یا اگر شک ہو کہ واجب ہے یا مستحب یا مباح تو اس پر ضرور عمل کرے ۔اور اسے احتیاط پر عمل کہتے ہیں۔ ج؛یا کسی ماہر مجتھد کی رائے پر اعتماد کرے اور جسے وہ واجب یا حرام قرار دے اس کے اطاعت کرے اسی کا نام تقلید ہےانہیں تین طریقوں سے وہ اپنی شرعی ذمہ داری کو نبھا سکتا ہے ؛پہلے طریقے میں زحمت کے ھمراہ ایک طویل مدّت بھی در کار ہے اور اجتھاد تک پہنچنے سے پہلے کی مدّت میں وہ دو ہی راستوں کا انتخاب کرسکتا ہے" احتیاط"یا "تقلید" دوسرے طریقہ میں بھی حلال و حرام کے سلسلہ میں اجتھاد کی حد تک نہ سہی پھر بھی اچھی خاصی معلومات کی ضرورت ہوتی ہے اس کے علاوہ ہر مسألہ میں احتیاطی روش اپنانا بہت سخت اور دشوار اور کبھی کبھی تو ناممکن ہوجاتاہے جیسے کسی چیز کے واجب یا حرام ہونے میں شک ہو ۔ ایسی صورت میں ایک ہی راستہ بچتا ہے اور وہ تیسرا راستہ تقلید کا ہے۔یہ دلیل صرف انہیں مسائل میں تقلید کو لازم قرار دیتی ہے جن کے حرام و حلال یا واجب یا زیادہ سے زیادہ مستحب ہونے میں شک ہو ،باقی مسائل میں لازمی طور سے تقلید کرنا اس دلیل سے سمجھ میں نہیں آتا ، ہاں پہلی دلیل کے مطابق یعنی عقلانی روش کے مطابق تمام مسائل میں تقلید کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ تقلید کے دوسرے جزئی مسائل جیسے میت کی تقلید پر باقی رہنا۔۔۔و غیرہ ان مسائل میں ہے جنھیں غیر مجتھد انسان حاصل نہیں کرسکتا اور اس سلسلہ میں اس کے پاس دو ہی راستے ہیں یا"احتیاط"یا "تقلید"۔ جواز یا لزوم تقلید کے سلسلہ اور دلائل بھی ہیں جن پر انحصار کرنا ایک مجتھد کا کام ہے اور جن کی بنا پر ایک مجتھد فتوا صادر کرتا ہے۔ نظر شما : |
![]() |